1 ستمبر 2010 - 19:30

حسینیہ امام خمینی (رہ) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے مجلس عزا منعقد ہوئی۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ مسلم  کے وصی و جانشین  ، امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے حسینیہ امام خمینی(رہ) میں عوام کے مختلف طبقات اور رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں مجلس عزا منعقد ہوئی۔مجلس عزا سے قبل نماز ظہر و عصر رہبر معظم انقلاب اسلامی کی امامت میں ادا کی گئی۔ مجلس عزا میں عزاداروں نے حضرت علی علیہ السلام کی مظلومہ شہادت پر آنسو بہائے۔واضح رہے کہ حسینیہ امام خمینی (رہ) میں مولی الموحدین ، امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی یاد میں انیس رمضان ، بیس رمضان  اور اکیس رمضان میں مجالس عزا کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

اعمال شب قدر اورمولائے متقیان کے سوگ میں عزاداری  اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آج کائنات کے سب سے مظلوم اول، ابو الائمہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کا سوگ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ایران کے مختلف علاقوں سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے عقیدتمندوں نے گزشتہ شب امام بارگاہوں اور مساجد میں شب بیداری کی ، شب قدر کے مخصوص اعمال انجام دیئے اور مولائے کائنات علیہ السلام کی شب شہادت کی مناسبت سے مجالس عزا اور سوگ و ماتم کا اہتمام کیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر مشہد مقدس میں حضرت امام رضا علیہ السلام اور قم میں آپ کی ہمشیرہ گرامی حضرت فاطمہ معصومہ علیھاالسلام کے روضہ ہائے مقدس پر ایران کے مختلف علاقوں سے عزاداروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شب بیداری کی اور اپنے مولا و آقا کی شہادت کا سوگ منایا ۔

خدائے تعالی کے عبادت گذار بندوں اور اہل بیت علیہم السلام کے عزاداروں نے گزشتہ شب قرآن کریم سر پر اٹھا کر دعائے جوشن کبیر پڑھی اور پرودرگار عالم کی بارگاہ میں مسلمانوں کی عزت و سربلندی اور دشمنان اسلام کی سازشوں کے ناکامی کی دعا کی۔

اس موقع پر علمائے کرام اور مقررین نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر روشنی ڈالی اور آپ کے فضائل و مصائب بیان کئے۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں شب ضربت سے ہی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی عزاداری کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو آج اپنے عروج کو پہنچا۔ اور پورے اسلامی ایران نے مولائے کائنات کی شہادت کا غم منایا اور تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی جلوس نکالے گئے۔

 سب سے بڑے جلوس مشہد مقدس ، قم المقدسہ اور تہران میں نکلے۔

مساجد ، امام بارگاہوں ، دکانوں اور گھروں پر کالے رنگ کے بینرز آویزاں رہے۔

پاکستان، ہندوستان، عراق اوردنیا کے مختلف علاقوں سے خبر ہے کہ جناب امیر علیہ السلام کے چاہنے والوں نے آپ کے یوم شہادت پر آپ کا غم منایا۔

نجف اشرف سے موصولہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ مولائے متقیان کے ایام شہادت کے موقع پر پوری دنیا سے دسیوں لاکھ کی تعداد میں سوگوار وہاں پہنچے تھے جہاں انھوں نے مظہر عدل و مساوات مولائے کائنات امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی شہادت کا غم منایا۔ اکیسویں کی شب نجف اشرف میں جناب امیر علیہ السلام کے حرم مطہر میں عزاداروں نے اپنے آقا کا غم منانے کے ساتھ ساتھ پرودگار رحیم و کریم کے حضور راز و نیاز کرکے اعمال شب قدر انجام دئے۔

پاکستان کے بھی تمام چھوٹے بڑے شہروں سے اطلاعات ہيں روزہ دار مومنین نے مولائے متقیان علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقع پر جلوس ہائے عزا برآمد کئے اس سلسلے کے مرکزی جلوس کراچی لاہور راولپنڈی ملتان حیدرآباد میں نکالے گئے۔ لاہور میں مرکزی جلوس عزا اندرون موچی دروازے سے نکالا گیا۔ہندوستان کے بھی تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس بیست و یکم بڑے ہی عقیدت واحترام سے نکالے گئے اور امام امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے سوگواروں نے آپ کی مظلومانہ شہادت کو یاد کرکے سینہ زنی و نوحہ خوانی کی۔

اس سلسلے کے مرکزی جلوس ہائے عزا لکھنو، حیدرآباد دکن، ممبئی، دہلی اور ديگرشہروں میں نکالے گئے۔ اس سے پہلے مومنین نے اکیس رمضان کی شب کو اعمال شب قدر انجام دئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110